حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں پولیس دفاتر کے قریب واقع ایک مسجد میں جمعہ کی نماز کے دوران ہونے والے زوردار دھماکے میں کم از کم 16 افراد شہید اور 50 سے زائد زخمی ہوگئے۔ شہداء ہونے میں پانچ پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔
پولیس اور امدادی حکام کے مطابق دھماکہ اولڈ پولیس لائنز کے قریب واقع مسجد میں اس وقت ہوا جب نمازی جمعہ کی نماز کے لیے موجود تھے۔ خیبر پختونخوا کے انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار حمید کے مطابق ایک دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی کو پولیس لائنز کے قریب لے جایا گیا، جس کے نتیجے میں زوردار دھماکہ ہوا۔
دھماکے سے مسجد کے بیرونی حصے اور قریبی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا جبکہ ایک دیوار بھی منہدم ہوگئی۔ امدادی ٹیموں نے ملبے سے زخمیوں اور لاشوں کو نکال کر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز اسپتال منتقل کیا۔
پولیس کے مطابق حملے کے دوران کم از کم دو مسلح حملہ آوروں نے پولیس کمپاؤنڈ میں داخل ہونے کی کوشش کی اور اہلکاروں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔ مقامی حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز اور حملہ آوروں کے درمیان کارروائی جاری رہی اور ایک حملہ آور کے مارے جانے کی بھی اطلاع ہے۔
ابتدائی اطلاعات میں کسی گروہ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ تاہم پاکستانی طالبان، یعنی تحریک طالبان پاکستان (TTP) پر شبہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ TTP پاکستان میں سکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں پر حملوں میں ملوث رہی ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب خیبر پختونخوا میں حالیہ دنوں کے دوران سکیورٹی فورسز اور مسلح گروہوں کے درمیان تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔ جمعرات کو ضلع ہنگو میں سکیورٹی فورسز کے قافلے پر سڑک کنارے بم حملے میں چھ اہلکار جاں بحق ہوئے تھے، جس کے بعد شمالی وزیرستان اور ہنگو میں فوجی کارروائیوں کے دوران 10 مشتبہ جنگجوؤں کی ہلاکت کی اطلاع دی گئی۔









آپ کا تبصرہ